اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کہ 34 شہروں میں جرائم کی شرح میں شدید اضافہ ہؤا ہے۔
امریکی قلمکار اور تجزیہ نگار مائیکل سنائیدر نے (Michael Schneider) نے اپنی یادداشت میں امریکہ کی معاشی اور سماجی صورت حال کے بارے میں لکھا: مجھے نہیں معلوم کہ کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ انسان موجودہ حالات میں شکاگو میں زندگی بسر کرنا چاہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جرائم پیشہ گروہوں کے ایک لاکھ سترہ ہزار (117000) عناصر (1) اس شہرے میں رہائش پذیر ہیں اور تشدد اس سطح پر ہے کہ یہاں کے واقعات ہر روز دنیا بھر کے اخبارات کی شہ سرخی بن رہے ہیں۔
شکاگو جرائم کا جہنم؛ یہ شہر جنگ زدہ علاقے میں تبدیل ہوگیا ہے / امریکہ میں غربت دھماکہ خیز ہے
گلیاں اور محلے جنگی علاقوں سے شباہت رکھتے ہیں۔
اس شہر کے کچھ خوشحال علاقے ابھی تک جاذب نظر، نظر آتے ہیں، لیکن بہت سے محلے جنگی علاقوں کی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے گرجاگھر، اسپتال اور کارخانے، جو کسی وقت خوبصورت اور جاذب نظر تھے، اس وقت پورے شہر میں، رفتہ رفتہ ویراں ہورہے ہیں اور بوسیدگی اور فرسودگی سے دوچار ہیں۔ (2) لوگوں کی آنکھوں کے سامنے البتہ منشیات کی منڈی کافی جوش و خروش کے ساتھ اپنا کام کررہی ہے (3) جس کے خوف سے عام صارفین مقامی کاروبار کی طرف جانے سے کتراتے ہیں۔ بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ پورا ملک اسی راستے پر گامزن ہے جس پر شکاگو نے عرصے سے قدم رکھا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ گذشتہ سال شکاگو قتل کی شرح کے لحاظ سے پوری دنیا میں اول نمبر پر رہا؛ لیکن کسی کو بھی یہ توقع نہ تھی کہ 2020ء میں میں قتل کی شرح میں 50 فیصہ اضافہ ہوگا۔ (4)
شکاگو پولیس نے اس شہر میں جرائم کے آخری اعداد و شمار کو شائع کردیا اور معلوم ہؤا کہ سنہ 2020ء میں فائرنگ اور قتل کی شرح میں 50 فیصد اضاف ہؤا ہے۔ سنہ 2020ء کے دوران شکاگو میں 769 افراد قتل ہوئے جبکہ 2019ء میں 495 افراد قتل ہوئے تھے۔
سنہ 2020ء کے دوران اس شہر میں 3261 مرتبہ گولی چلی جبکہ 2019ء میں 2140 مرتبہ فائرنگ ہوئی تھی۔ سنہ 2020ء میں 4033 افراد فائرنگ کا نشانہ بنے جبکہ 2019ء میں نشانہ بننے والوں کی تعداد 2598 تھی۔
لوگ شہر شکاگو اور ریاست الینوئی (Illinois) سے فرار ہورہے ہیں
ریاست الینوئی اور اس کے درالحکومت شکاگو سے لوگوں کے فرار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ برطانوی اخبارات نے سنہ 2020ء میں ریاست الینوئی اور اس کے دارالحکومت شکاگو سے اجتماعی فرار کو "تاریخی" فرار (5) قرار دیا۔
ریاست الینوئی نے جولائی 2019ء سے جولائی 2020ء تک، مسلسل ساتویں (6) سال، آبادی میں کمی ریکارڈ کی۔ لیکن اس مدت میں 79487 افراد نے اس ریاست کو ترک کردیا جو ایک تاریخی ہجرت تھی۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مختلف ریاستوں سے ہونے والی ہجرتوں کی نسبت سب سے بڑی ہجرت ہے۔
برسوں کے دوران آبادی میں بڑی کمیوں کی وجہ سے ریاست الینوئی نے سنہ 2010ء کے دوران آبادی میں سب سے بڑی کمی کا تجربہ کرلیا۔ اس مدت میں اس ریاست کی آبادی کو 253015 افراد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو دوسری ریاستوں سے 3 گنا زیادہ ہے۔
یہ مسئلہ سمجھ میں آنے والا ہے کہ لوگ بہتر مقامات کی تلاش میں کیوں نکل رہے ہیں، لیکن دوسرے بڑے شہروں میں بھی جرائم اور شرپسندی کی شرح میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔
امریکہ کے 34 بڑے شہروں میں جرائم اور شرپسندی میں مسلسل اضافہ
یو ایس نیوز کے مطابق، شائع ہونے والی حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنہ 2020ء کے دوران امریکہ کے 34 بڑے شہروں میں جرائم کی شرح میں اوسط طور پر 30 فیصد اضافہ ہؤا ہے۔ (7)
ماہرین کی آراء کے مطابق، سنہ 2020ء میں امریکہ کے 34 بڑے شہروں میں 30 فیصد اضافہ ایسے حال میں ریکارڈ ہؤا ہے کہ امریکہ [مبینہ طور پر!] کورونا کی وبا اور پولیس کی درندگی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں سے چھٹکارا چکا ہے! (8)
قومی کمیشن برائے کوویڈ ۔19 اور فوجداری انصاف (9) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سروے شدہ 34 شہروں میں سے 29 شہروں میں قتل کی شرح میں اضافہ ہؤا ہے اور اس تحقیق کے نمونے کے تین بڑے شہروں، نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو میں قتل کی شرح میں اضافہ 40 فیصد ہے۔ چنانچہ حال حاضر میں امریکہ کے تمام بڑے شہر غیر محفوظ ہیں۔
امریکی معاشرہ ٹوٹ رہا ہے
بدقسمتی سے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہا ہے اور مستقبل کے سخت اور دشوار برسوں میں اس عمل کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔ معاشی صورت حال جتنی نازک ہوگی، عوام مزید عاجز و بےبس ہوجائیں گے اور آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر روز زیادہ سے زیادہ کاروبار بند ہورہے ہیں۔
غربت امریکہ میں ہر جگہ دھماکہ خیز ہو چکی ہے
غربت امریکہ کے تمام ترعلاقوں میں دھماکہ خیز مرحلے پر پہنچ چکی ہے اور معاشی تنزلی کے اس عمل نے غِذائی سِلسِلے کے چھوٹے کاروباروں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جیسے جیسے معاشی بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے غذائی سلسلے کی ذیلی شاخوں میں سرگرم عمل چھوٹے کاروباری خوشحال اور امیرنشین علاقوں کی طرف رخ کررہے ہیں تاکہ اپنی بےبسی اور اور اجاڑپن کی بھڑاس ان علاقوں کے باسیوں پر خالی کر سکیں۔
جو لوگ رابن ہوڈ جیسے خیالات کے حامل ہیں، یہ دعوی کرنے کی کوشش کریں گے امیروں سے چوری کرکے غریبوں میں بانٹنا، عدل و انصاف ہے۔ لیکن یہ درحقیقت سڑکوں میں بےلگام لاقانونیت کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
مائیکل سنائیدر نے آخر میں خبردار کیا: بغاوت، لوٹ مار اور تشدد کا آج تک کا سلسلہ، درحقیقت ایک سلسلے کا آغاز ہے۔ ہمیں آنے والے دنوں میں اس سے کہیں زیادہ بری صورت حال کا سامنا ہے اور بہت جلد پورا امریکہ شکاگو کے بدترین محلوں کی طرح ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
1. https://news.wttw[.]com/2020/07/27/critics-say-chicago-police-need-rethink-tracking-gang-members-curbing-violence
2. https://www.thrillist[.]com/lifestyle/chicago/abandoned-buildings-for-urban-exploration-near-chicago
3. https://blockclubchicago[.]org/2020/10/1۶/garfield-park-businesses-forced-to-close-as-open-air-drug-market-crime-scares-off-customers-with-no-help-in-sight-owners-say/
4. https://abc7chicago[.]com/chicago-shootings-2020-shooting-crime-stats-statistics/9250374/
5. https://www.dailymail[.]co.uk/news/article-9211217/US-murder-rates-2020-soar-30-cent-no-modern-precedent.html
6. https://www.illinoispolicy[.]org/illinois-sees-worst-population-decline-since-world-war-ii/
7. https://www.usnews[.]com/news/nationa...ide-rates-spike-amid-pandemic-police-protests
8۔ معلوم نہیں کہ حقیقت پسندی کی بنیاد پر رپورٹ لکھنے والے مائیکل سنائیدر نے یہ کیونکر لکھ دیا کہ امریکہ کورونا کی وبا اور احتجاجی مظاہروں سے چھٹکارا پا چکا ہے حالانکہ کورونا کا شکار سب سے بڑا ملک ہنوز امریکہ ہے اور احتجاجی مظاہرے ہنوز جاری ہیں۔
9. National Commission on COVID-19 and Criminal Justice
فارسی لنک: mshrgh[.]ir/1192424
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰